نکاح ایک پاکیزہ اور سادہ عبادت ہے، مگر ہماری موجودہ معاشرتی رسومات نے اس سادگی کو مصنوعی تقاضوں سے بوجھل بنا دیا ہے۔ آج بھی ہمارے دیہی علاقوں میں جہیز جیسی لعنت ایسے سانپ کی مانند پھیل چکی ہے جس سے کئی گھروں کے خواب زہر آلود ہو چکے ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی اُس دن میرے سامنے آئی، جو دل کو چھو لینے والی اور غور و فکر پر مجبور کر دینے والی تھی۔
گاؤں کے ایک شریف اور غریب کسان کی بیٹی کی شادی کا دن تھا۔ نکاح کی تیاریاں مکمل تھیں، مسجد کے امام صاحب تشریف فرما تھے، گواہان بھی موجود تھے، اور دلہن کے والد نے بیٹی کا ہاتھ خوشی سے اس امید پر کسی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا تھا کہ اُس کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں جائے گا۔ مگر عین اس وقت جب قاضی صاحب نکاح پڑھانے لگے، لڑکے والوں نے ایک ایسی شرط رکھ دی جس نے ماحول کو سنجیدہ کر دیا۔
لڑکے کے باپ نے کھڑے ہو کر کہا:
“ہمیں نکاح منظور ہے، لیکن چونکہ ہمارا بیٹا کھیتوں میں کام کرتا ہے، ہمیں ایک ٹریکٹر کی بھی ضرورت ہے۔ آپ کو یہ دینا ہوگا۔”
یہ سن کر دلہن کا باپ جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ شادی کے اخراجات اٹھا رہا تھا، خاموش ہو گیا۔ پھر اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اُس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:
“بیٹی کا رشتہ دے رہا ہوں، زمین نہیں بیچ رہا۔ اگر میرے پاس اتنے پیسے ہوتے تو میں اپنی بیٹی کو شہزادی کی طرح رخصت کرتا۔”
ماحول میں خاموشی چھا گئی۔ نکاح جیسے پاکیزہ عمل میں ٹریکٹر کی ڈیمانڈ نے سب کو چونکا دیا۔ کچھ مہمانوں نے سر جھکا لیے، کچھ نے آنکھیں پھیر لیں، لیکن سب کے دل میں ایک ہی سوال تھا: کیا ہم نے نکاح کو واقعی کاروبار بنا دیا ہے؟
لڑکی کے والد نے دو قدم پیچھے ہٹ کر قاضی صاحب سے کہا:
“جناب، اگر یہ رشتہ بیٹی کے اخلاص پر نہیں بلکہ میرے سامان اور ٹریکٹر پر منحصر ہے، تو میں اس نکاح سے پیچھے ہٹتا ہوں۔”
یہ سن کر قاضی صاحب نے نرمی سے لڑکے کے والدین کو سمجھایا کہ اسلام میں نکاح آسان کیا گیا ہے، اس میں مالی بوجھ ڈالنا خلافِ سنت ہے۔ مگر حرص اور دنیاوی لالچ نے کچھ سننے کی اجازت نہ دی۔ لڑکے کے والد نے صاف انکار کر دیا۔
نتیجہ:
یہ واقعہ صرف ایک گاؤں یا ایک خاندان کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری مجموعی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم نے نکاح جیسے مقدس عمل کو تجارت بنا دیا ہے۔ ٹریکٹر، زیورات، مہنگے جہیز اور نمود و نمائش کی شرطیں ہماری بیٹیوں کے لیے ایک امتحان بن چکی ہیں۔ والدین کو روتا دیکھنا اور بیٹیوں کے خواب بکھرتے دیکھنا اس نظام کی سفاک حقیقت ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بے حس روایت کے خلاف آواز بلند کریں۔ نکاح کو آسان بنائیں، اخلاص کو اہمیت دیں، اور بیٹیوں کو بوجھ نہیں، رحمت سمجھیں۔ اگر ہم نے آج یہ فیصلہ نہ کیا، تو کل ہر نکاح ایک سودا بن کر رہ جائے گا۔
