💫 عورت شادی کے بعد شوہر کی جدائی میں کتنا صبر کر سکتی ہے؟ اور کیا کرے؟ (خصوصاً بیرون ملک جانے والوں کے لیے اہم معلومات)
شادی کے بعد ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ رہے، اس کی محبت اور توجہ حاصل ہو اور وہ خوشیوں بھری زندگی گزارے۔ مگر بعض اوقات مجبوری کے تحت شوہر کو رزقِ حلال کے لیے بیرون ملک جانا پڑتا ہے اور بیوی کو صبر کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا ہے۔
❇ عورت شوہر کی جدائی میں کتنا صبر کر سکتی ہے؟
یہ عورت کی فطرت، مزاج اور حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ عام طور پر:
-
نیک اور صابر عورتیں اپنے شوہر کی جدائی میں مہینوں اور سالوں تک صبر کر لیتی ہیں، بشرطیکہ شوہر ان کی ضروریات اور جذبات کا خیال رکھے۔
-
اگر شوہر وقتاً فوقتاً رابطہ رکھے، محبت بھرے الفاظ دے اور عورت کو اعتماد میں رکھے تو عورت صبر سے وقت گزار لیتی ہے۔
❇ اگر عورت کو شوہر کی دوری میں پریشانی ہو تو کیا کرے؟
-
سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے صبر اور سکون کی دعا کرے۔
-
شوہر سے رابطہ میں رہے اور اپنے دل کی کیفیت اس سے شیئر کرے۔
-
عبادات اور تلاوتِ قرآن میں دل لگائے تاکہ وقت اچھے انداز میں گزرے۔
-
اپنے آپ کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول رکھے جیسے تعلیم، بچوں کی تربیت، یا کوئی ہنر سیکھنا۔
❇ بیرون ملک جانے والے شوہروں کے لیے نصیحت
-
بیوی کو تنہا چھوڑ کر جائیں تو اس کا خیال رکھیں، اس سے مسلسل رابطہ کریں اور مالی ضروریات پوری کریں۔
-
بیوی کو اعتماد اور محبت دیں تاکہ وہ صبر کے ساتھ آپ کا انتظار کرے۔
-
موقع ملتے ہی چھٹی پر آکر بیوی اور بچوں کے ساتھ وقت گزاریں تاکہ تعلق مضبوط رہے۔
🌸 آخری بات:
اسلام ہمیں صبر، محبت اور حسنِ سلوک کا درس دیتا ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے تاکہ دوری بھی تعلقات کو کمزور نہ کرے بلکہ مزید مضبوط کرے۔
