Information

میرا گھر والا سعودیہ عرب میں رہتا تھا، 2 سال بعد گھر آیا ہے اور اس نے مجھے…

میرا گھر والا سعودیہ عرب میں رہتا تھا، 2 سال بعد گھر آیا ہے اور اس نے مجھے...

میری زندگی کی کہانی ان ہزاروں لاکھوں عورتوں جیسی ہے جن کے شوہر بیرونِ ملک کام کے سلسلے میں جاتے ہیں، اور پیچھے بیوی بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں۔ میرا شوہر دو سال پہلے روزگار کے لیے سعودی عرب گیا تھا۔ جب وہ جا رہا تھا تو دل بوجھل تھا، آنکھیں اشکبار تھیں، اور ذہن میں بس ایک ہی دعا تھی کہ اللہ اسے سلامت رکھے اور ہمارے لیے رزقِ حلال کما کر لائے۔

یہ دو سال میرے لیے بہت صبر آزما تھے۔ میں نے تنہائی، ذمہ داریوں اور جذباتی کمی کو محسوس کیا۔ اگرچہ میرا شوہر ہر ماہ پیسے بھیجتا رہا، بچوں کی پڑھائی اور گھر کے خرچ کے لیے مکمل ذمہ داری ادا کرتا رہا، لیکن اس کے بغیر زندگی ادھوری سی لگتی تھی۔ فون کالز اور ویڈیو چیٹس سے بات تو ہو جاتی، لیکن اصل قربت اور رفاقت کی کمی کہیں نہ کہیں دل کو دُکھ دیتی تھی۔

پھر اللہ نے وہ دن دکھایا جس کا انتظار تھا۔ دو سال بعد جب میرا شوہر گھر واپس آیا تو میرے جذبات کی شدت قابلِ بیان نہیں تھی۔ بچے خوشی سے اچھل پڑے، گھر کا ماحول جیسے عید کا دن بن گیا۔ اور سب سے بڑھ کر، اس نے مجھے ایک ایسی چیز دی جو صرف قیمتی تحفہ نہیں بلکہ میرے صبر، وفاداری، اور محبت کا اعتراف تھا۔

اس نے مجھے عزت دی، پیار دیا، اور دل سے تسلیم کیا
جب وہ آیا تو صرف سامان یا تحفے نہیں لایا، وہ لایا ایک نیا احساس، ایک نیا رویہ۔ اس نے آ کر کہا:

“میں نے دور رہ کر جانا کہ تمہاری اہمیت کیا ہے۔ تم نے میرے بغیر جو کچھ سہا، اس پر میں تمہارا شکر گزار ہوں۔”

یہ الفاظ میرے لیے کسی سونے چاندی کے زیور سے بڑھ کر تھے۔ اس نے میرے جذبات، میری تکلیف، اور میرے انتظار کو محسوس کیا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس نے وہاں میرے لیے نمازیں مانگیں، میرے لیے حلال روزی کمائی، اور اپنے ہر فیصلے میں مجھے شامل رکھا۔

محبت کا نیا آغاز
اس کی واپسی کے بعد ہمارے درمیان ایک نئی محبت نے جنم لیا ہے۔ اب ہم صرف میاں بیوی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے دوست بن چکے ہیں۔ اس نے میرے لیے ایک نیا موبائل خریدا، بچوں کے لیے کپڑے اور تحائف لائے، اور سب سے بڑھ کر میرے ماں باپ کے لیے بھی ہدیے لائے۔

لیکن ان سب چیزوں سے بڑھ کر جو بات میرے دل کو چھو گئی وہ تھی اس کا بدلا ہوا رویہ۔ وہ اب میری بات سنتا ہے، میری رائے لیتا ہے، اور مجھے اپنے فیصلوں میں شامل کرتا ہے۔ یہ سب کچھ شاید ممکن نہ ہوتا اگر وہ ان دو سالوں میں دور جا کر زندگی کی حقیقتوں کو نہ دیکھتا۔

نتیجہ:
بیرون ملک رہنے والے شوہر اکثر یہ سوچتے ہیں کہ صرف پیسہ بھیج دینا ہی کافی ہے، لیکن اصل رشتہ تب مکمل ہوتا ہے جب دل سے تعلق جوڑا جائے، بیوی کی تکلیف کو محسوس کیا جائے اور اس کے صبر کو سراہا جائے۔

میری دعا ہے کہ ہر وہ بیوی جو اپنے شوہر کے فراق میں جی رہی ہے، اللہ اسے جلد از جلد اس کے پیارے سے ملا دے، اور ان کے رشتے میں محبت، سکون، اور اعتماد قائم رکھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *