Information

بغیر والدین کے ننھے بچے کا طورخم بارڈر پر آخری وقت — گلے، شکوے اور خاموش آنسوؤں کی کہانی

بغیر والدین کے ننھے بچے کا طورخم بارڈر پر آخری وقت

طورخم بارڈر، وہ مقام جہاں روز سینکڑوں لوگ سرحد پار کرتے ہیں۔ کوئی روزگار کے لیے، کوئی علاج کی تلاش میں، اور کوئی صرف زندگی کی بہتر امید میں۔ مگر اُس دن کی فضاء کچھ اور تھی۔ لوگ جیسے ہی بارڈر پر پہنچے، اُن کی نگاہیں ایک ننھے بچے پر ٹھہر گئیں — ایک ایسا بچہ جو نہ روتا تھا، نہ ہنستا، صرف خاموشی سے زمین کو تکتا رہا۔

اس کا نام کسی کو نہیں معلوم تھا، مگر اس کے چہرے پر لکھی ہوئی اداسی سب کو چھو رہی تھی۔ عمر بمشکل پانچ یا چھ سال۔ ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تھیلا، جس میں شاید کچھ کپڑے یا کھلونے تھے، اور آنکھوں میں سمندر جیسا درد۔

ماں باپ کہاں ہیں؟

کچھ لوگ آگے بڑھے، پوچھا، “بیٹا، والدین کہاں ہیں؟”
بچے نے نظریں نیچی کیے صرف اتنا کہا، “امی گئی ہیں، ابو کو پتہ نہیں…”

کوئی تفصیل نہ دی، نہ بتانے کی ہمت تھی۔ اُس کی زبان خاموش تھی مگر آنکھیں سب کچھ بول رہی تھیں۔ جیسے کہہ رہی ہوں:

“امی، میں نے رات کو سوتے وقت آپ کے بازو کے نیچے سر رکھا تھا، آپ کہاں چلی گئیں؟ ابو، آپ تو کہتے تھے مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑو گے، پھر کیوں؟”

بارڈر پر موجود اہلکار بھی حیران

طورخم پر موجود اہلکاروں نے اسے چاکلیٹ دی، پانی پلایا، پیار سے بٹھایا۔ ایک افسر کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ اس نے کہا، “ہم ہر روز لاتعداد لوگ دیکھتے ہیں، مگر یہ بچہ کچھ الگ ہے۔ یہ خاموش رہ کر بھی چیخ رہا ہے۔”

گرد آلود کپڑے، مگر پاک دل

اس ننھے بچے کے کپڑے گرد آلود تھے، شاید کئی دن سے سفر میں تھا۔ لیکن اُس کے دل میں کوئی شکایت نہیں تھی، بس ایک خاموش دعا تھی:

“یا اللہ، مجھے میری ماں کی گود واپس دے دے…”

لوگ رُک کر دیکھتے رہے

بارڈر سے گزرنے والے ہر شخص کی نگاہ اُس بچے پر رُکی۔ کچھ دعائیں مانگتے گزرے، کچھ کی آنکھیں چھلک گئیں۔ کوئی تصویر لینے لگا، تو کوئی بس دل ہی دل میں اُس کی کہانی سوچتا رہا۔

زندگی کا سب سے تلخ سبق

وہ بچہ اپنے چھوٹے چھوٹے قدموں سے اُس سرزمین کی طرف دیکھ رہا تھا جس سے شاید اُسے نکال دیا گیا تھا، یا جسے وہ تلاش کر رہا تھا۔ نہ کوئی پاسپورٹ، نہ ویزہ، نہ کاغذ — صرف ایک معصوم چہرہ اور آنکھوں میں ایک ہی سوال:

“کیا کوئی مجھے لینے آئے گا؟”

آخر میں

یہ کہانی صرف ایک بچے کی نہیں، بلکہ ان تمام بے سہارا بچوں کی ہے جو جنگ، غربت، ہجرت یا حادثے کا شکار ہو کر اپنا سب کچھ کھو دیتے ہیں۔ طورخم بارڈر پر اس بچے کی خاموشی نے ہزاروں آوازوں کو جھنجھوڑ دیا۔ اور ہمیں یہ یاد دلا گئی کہ دنیا میں سب سے بڑا سچ ماں کی گود اور باپ کا سایہ ہوتا ہے — جو چلا جائے تو بچا کچھ نہیں۔

اللہ اس بچے کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *