(سچائی، پچھتاوا اور اصلاح کا پیغام)
عاصمہ ایک خوش اخلاق، سمجھ دار اور باعزت گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔ والد استاد تھے اور ماں ایک سادہ گھریلو خاتون۔ عاصمہ نے ہمیشہ اپنے ماں باپ کے خوابوں کو اپنی آنکھوں میں سجایا اور خود کو پڑھائی کے لیے وقف رکھا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ ایک دن ڈاکٹر بنے، اپنے ماں باپ کا سر فخر سے بلند کرے، اور معاشرے میں اپنا مقام حاصل کرے۔
لیکن زندگی ہمیشہ ویسی نہیں ہوتی جیسا ہم سوچتے ہیں۔
شروعات کہاں سے ہوئیں؟
عاصمہ جب کالج گئی، تو ایک نئی دنیا اس کے سامنے کھلی۔ وہاں نئے دوست، سوشل میڈیا، میک اپ، برانڈڈ لباس اور نام نہاد “آزادی” نے اس کی توجہ کھینچنا شروع کی۔ اسے ایک لڑکے، ارحم، سے دوستی ہو گئی جو خود کو امیر اور سمارٹ ظاہر کرتا تھا۔ ارحم کی باتیں، اس کا طرزِ زندگی، اور مسلسل محبت کا دعویٰ عاصمہ کے لیے کسی خواب جیسا تھا۔
ارحم نے عاصمہ سے کہا:
“بس ایک رات، ایک بار مل لو، پھر ہم نکاح کر لیں گے۔”
عاصمہ نے پہلے انکار کیا، لیکن وہ محبت کے جھوٹے وعدوں، تنہائی اور جذبات کی کمزوری کا شکار ہو گئی۔
وہ ایک رات…
وہ رات جس میں عاصمہ نے اپنی عزت، اعتبار، اور خاندان کا بھروسہ سب کچھ داؤ پر لگا دیا… اگلی صبح وہی ارحم جس نے شادی کے وعدے کیے تھے، موبائل بند کر کے غائب ہو چکا تھا۔ عاصمہ ٹوٹ چکی تھی، شرمندگی اور خوف سے گھر والوں کو کچھ بتا نہ سکی۔ لیکن وقت کب کسی کا راز چھپاتا ہے؟
چند دنوں میں ویڈیوز، میسجز، اور افواہیں کالج میں پھیل گئیں۔ وہی لڑکیاں جو عاصمہ کی سہیلیاں تھیں، اب اسے طعنے دینے لگیں۔ ماں باپ کا چہرہ شرم سے جھک گیا۔ عاصمہ کے خواب، مقام، سب کچھ ایک رات میں ختم ہو گیا۔
اصل قیمت کیا تھی؟
یہ صرف ایک رات نہیں تھی…
یہ ایک زندگی کا اعتماد، ماں باپ کی عزت، اور اپنا مستقبل تھا جو دائو پر لگا دیا گیا۔
سیکھنے کا لمحہ:
-
ہر “میں تم سے محبت کرتا ہوں” والا انسان سچا نہیں ہوتا۔
-
سوشل میڈیا پر دکھائی دینے والی چمک دمک، اصل زندگی سے بہت مختلف ہوتی ہے۔
-
عزت ایک لمحے میں کھو سکتی ہے، لیکن زندگی بھر کا پچھتاوا دے جاتی ہے۔
-
والدین سے دوری اور چھپانا اکثر ہمیں شیطان کے دھوکے میں ڈال دیتا ہے۔
عاصمہ آج کہاں ہے؟
عاصمہ نے زندگی سے سبق سیکھا۔ اس نے دوبارہ تعلیم کا سفر شروع کیا، نفسیاتی مدد لی، اور اب ایک NGO کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ وہ دوسری لڑکیوں کو ایسے فیصلوں سے بچا سکے۔
اس کا پیغام ہے:
“خدارا! ایک جھوٹے وعدے، ایک نام نہاد محبت، یا ایک جذباتی لمحے کے لیے اپنی پوری زندگی تباہ مت کرو۔ جو عزت ماں باپ کی گود سے ملی ہے، وہ دنیا کا کوئی شخص واپس نہیں دے سکتا۔”
