Information

ظلم کی انتہا: شیخوپورہ میں بہو پر سسرالیوں کا وحشیانہ تشدد — ایک معاشرتی المیہ

ظلم کی انتہا: شیخوپورہ میں بہو پر سسرالیوں کا وحشیانہ تشدد — ایک معاشرتی المیہ

گزشتہ روز شیخوپورہ کے ایک علاقے سے آنے والی خبر نے ہر حساس دل کو لرزا کر رکھ دیا۔ سسرالی رشتے، جو محبت، عزت اور تحفظ کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، جب ظلم و بربریت میں بدل جائیں تو یہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔

متاثرہ خاتون پر مبینہ طور پر شدید جسمانی تشدد کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ زخمی حالت میں اسپتال پہنچیں۔ اہل محلہ کے مطابق کئی دنوں سے اس گھر سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں، مگر کسی نے مداخلت کی ضرورت نہ سمجھی۔


سسرال میں بہو پر ظلم: کب تک؟

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہو کو اکثر ایک “خدمت گزار” یا “برداشت کرنے والی” شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر وہ بولتی ہے، تو گستاخ؛ اگر خاموش رہتی ہے، تو کمزور۔ ایسے میں تشدد، طعن و تشنیع، اور زبانی بدسلوکی معمول بن جاتی ہے۔

یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ آئے روز مختلف شہروں سے ایسی خبریں آتی ہیں کہ بہوؤں کو جلا دیا گیا، زہر دے دیا گیا، یا مار مار کر موت کے قریب پہنچا دیا گیا۔


اصل مسئلہ کہاں ہے؟

  1. تعلیم و شعور کی کمی: سسرالی رشتوں کے حقوق و فرائض سے لوگ ناواقف ہیں۔

  2. رسم و رواج کا بوجھ: بہو سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر ظلم کو خاموشی سے برداشت کرے۔

  3. قانونی نظام پر عدم اعتماد: خواتین اکثر رپورٹ نہیں کرتیں، یا پولیس کارروائی مؤثر نہیں ہوتی۔

  4. گھریلو سیاست: اکثر نند، دیور یا ساس کی مداخلت گھر کو جہنم بنا دیتی ہے۔


اسلام کیا کہتا ہے؟

اسلام عورت کو عزت، تحفظ اور حقوق فراہم کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔”

اگر بیوی کے ساتھ حسن سلوک فرض ہے، تو بہو، جو کسی کی بیٹی ہے، اس کے ساتھ ظلم کیسے جائز ہو سکتا ہے؟


حل کیا ہے؟

تعلیم و تربیت: والدین اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو شادی سے پہلے رشتوں کے احترام کا شعور دیں۔
قانونی کارروائی: متاثرہ خواتین فوراً پولیس یا خواتین کے تحفظ کے اداروں سے رجوع کریں۔
محلے داروں کی ذمے داری: اگر پڑوس میں تشدد کی آوازیں آئیں تو خاموش رہنا جرم میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔
سوشل میڈیا پر بیداری: ایسے واقعات کو سنجیدہ انداز میں اجاگر کریں تاکہ مظلوم کو انصاف ملے۔


نتیجہ

شیخوپورہ کی یہ مظلوم خاتون صرف ایک فرد نہیں، وہ ایک سوالیہ نشان ہے ہمارے معاشرتی نظام پر۔ کیا ہم اس ظلم پر صرف افسوس کر کے آگے بڑھ جائیں گے؟ یا ہم آواز اٹھائیں گے، تعلیم کو فروغ دیں گے، اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے؟

ظلم کے خلاف خاموشی، ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔

دعا ہے کہ متاثرہ خاتون کو جلد صحت یابی نصیب ہو، اور ظالموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مثالی سزا دی جائے تاکہ کسی اور بہو کی عزت اور جان محفوظ رہ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *