میری بھابھی ہر سال بچہ جنم دیتی اور سرکاری ہسپتال جاتی، واپسی میں اپنے ساتھ ڈھیر سارے پیسے لاتی اور کہتی کہ ڈاکٹر حاملہ عورتوں سے بچہ جنم دینے کے بعد ایک چیز لیتے ہیں اور اس کے بدلے لاکھوں روپے دیتے ہیں۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی، میں بھابھی سے اس چیز کا پوچھتی کہ وہ کیا چیز ہے تو بھابھی کہتی، “تم ابھی چھوٹی ہو، پر جب میری شادی ہوئی اور حاملہ ہوئی تو میں نے اسی ہسپتال میں بچہ جنم دیا، تو میرے ہوش اڑ گئے جب ڈاکٹر نے مجھ سے میرا۔۔۔”
میری بھابھی کے راز نے مجھے ہلا کر رکھ دیا
جب میں نے پہلی بار بھابھی کی بات سنی کہ وہ سرکاری ہسپتال سے واپسی پر لاکھوں روپے لے کر آتی ہے، تو مجھے یقین نہیں آیا۔ یہ سن کر میرا دل گھبرا گیا۔ میں نے سوچا کہ شاید یہ کوئی مذاق یا غلط فہمی ہو۔ مگر جب میں نے ان سے بار بار پوچھا تو آخرکار انہوں نے اپنی کہانی سنائی، جو سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔
سرکاری ہسپتال کی حقیقتیں
میری بھابھی نے بتایا کہ سرکاری ہسپتال میں حاملہ خواتین کی دیکھ بھال تو مفت ہوتی ہے، مگر وہاں ڈاکٹروں اور عملے کے کچھ ایسے طریقے ہیں جو عام طور پر سامنے نہیں آتے۔ وہ کہتی ہیں کہ زچگی کے بعد ڈاکٹر خواتین سے ایک خاص چیز لیتے ہیں، جو ان کے لیے لاکھوں روپے کی کمائی کا ذریعہ بنتی ہے۔
بھابھی کا مطلب تھا کہ زچگی کے بعد جو دستاویزات، رپورٹس، یا کچھ مخصوص پیپرز ہوتے ہیں، انہیں حاصل کرنے کے لیے اضافی رشوت دی جاتی ہے۔ اور یہ رقم نہ صرف بھابھی بلکہ ہسپتال کے عملے کی جیب میں جاتی ہے۔
میری اپنی زچگی کا واقعہ
جب میری شادی ہوئی اور میں حاملہ ہوئی، تو مجھے بھی اپنے ہسپتال جانے کا موقع ملا۔ وہاں میں نے بھی وہی صورتحال دیکھی جو بھابھی نے بیان کی تھی۔
زچگی کے بعد، جب میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ آخر وہ کون سی چیز ہے جو وہ ہم سے لیتے ہیں، تو انہوں نے کچھ نہ کہا، بلکہ خاموشی اختیار کر لی۔ پھر میں نے دیکھا کہ کئی خواتین اپنے دستاویزات کے بدلے کئی ہزار روپے ادا کر رہی ہیں۔
یہ صورتحال میرے لیے بہت ہی افسوسناک اور تکلیف دہ تھی۔ جہاں حکومت نے عوام کے لیے مفت سہولتیں فراہم کر رکھی تھیں، وہاں بھی رشوت اور کرپشن کے باعث لوگ اپنی آنکھیں بند کر کے چل رہے تھے۔
کرپشن کی وجہ سے خواتین کو مشکلات کا سامنا
یہ حقیقت کہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی رشوت اور ناجائز معاوضے لیے جاتے ہیں، بہت سے خاندانوں کے لیے پریشانی اور مسائل کا باعث بنتی ہے۔ خاص طور پر حاملہ خواتین جو پہلے ہی جسمانی اور نفسیاتی طور پر کمزور ہوتی ہیں، انہیں مزید تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
میرے علاقے میں کئی خواتین نے یہ بات چھپائی رکھی کہ انہیں ہسپتال کے عملے کو رشوت دینا پڑی، ورنہ انہیں معیاری علاج نہیں ملتا۔ اس سے نہ صرف خواتین کا اعتماد سرکاری نظام سے ختم ہوتا ہے بلکہ صحت کے شعبے کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اس طرح کی کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرے، سرکاری اداروں میں شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کرے۔
سرکاری ہسپتالوں میں خواتین کی مکمل اور بلا معاوضہ دیکھ بھال ہونی چاہیے تاکہ وہ صحت مند بچے جنم دے سکیں اور معاشرہ بھی صحت مند ہو۔
نتیجہ
میری بھابھی کی کہانی اور میری اپنی تجربات نے مجھے یہ سکھایا کہ ہمیں اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے متحد ہونا ہوگا۔ کرپشن کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا تاکہ ہر حاملہ عورت کو وہ سہولتیں مل سکیں جس کی وہ حق دار ہے۔
اگر ہم سب مل کر اس نظام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، تو یقیناً ہمارا ملک صحت کے شعبے میں ترقی کرے گا اور خواتین کو ان کا حق دیا جائے گا۔
