حال ہی میں پیش آنے والے احمد آباد طیارہ حادثے نے پورے ملک کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ مسافروں کی جانیں ضائع ہونا کسی بھی قوم کے لیے ناقابلِ برداشت سانحہ ہوتا ہے۔ ایسے واقعات کے بعد صرف غم اور دکھ نہیں، بلکہ سوالات بھی جنم لیتے ہیں کہ آخر یہ حادثہ کیوں ہوا؟
جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، اصل وجوہات کا حتمی تعین نہیں ہو سکتا، مگر ہوابازی کے ماہرین اور ماضی کے تجربات کی روشنی میں ہم چند ممکنہ وجوہات پر نظر ڈال سکتے ہیں۔
1. تکنیکی خرابی
اکثر حادثات کی وجہ طیارے کے اندر کوئی بڑی یا معمولی تکنیکی خرابی ہوتی ہے، جیسے:
-
انجن فیل ہونا
-
ہائیڈرولک سسٹم کا فیل ہو جانا
-
الیکٹریکل خرابی
-
وارننگ سسٹم کی ناکامی
اگر طیارے کے سسٹمز وقت پر خطرے کی اطلاع نہ دیں، تو پائلٹ کے پاس ردِعمل کا وقت بہت کم رہ جاتا ہے۔
2. انسانی غلطی
ماہرین کے مطابق، کئی فضائی حادثات میں پائلٹ یا ایئرٹریفک کنٹرول کی غلطیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جیسے:
-
غلط لینڈنگ کا فیصلہ
-
موسم کو نظرانداز کرنا
-
کمیونیکیشن گیپ
-
ہنگامی صورتِ حال سے درست طریقے سے نہ نمٹ پانا
3. خراب موسم
خراب موسم، خاص طور پر:
-
طوفانی بارش
-
دھند
-
آندھی یا تیز ہوائیں
-
بجلی چمکنے کے واقعات
یہ سب چیزیں لینڈنگ اور ٹیک آف کے دوران طیارے کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
4. پرندوں سے ٹکرا جانا (Bird Strike)
بعض اوقات لینڈنگ یا ٹیک آف کے دوران طیارہ پرندوں سے ٹکرا جاتا ہے، جو انجن میں پھنس کر بہت بڑا حادثہ پیدا کر سکتا ہے۔ یہ چھوٹی سی چیز بظاہر غیر اہم لگتی ہے، مگر اس کے اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔
5. پرانی یا ناقص دیکھ بھال شدہ ایئرکرافٹ
اگر کسی ایئرلائن کی maintenance ٹیم طیارے کی بروقت اور معیاری دیکھ بھال نہ کرے، تو پرانی مشینری اور آلات میں اچانک خرابی آ سکتی ہے۔ بھارت سمیت کئی ممالک میں یہ مسئلہ سامنے آ چکا ہے۔
6. دہشت گردی یا تخریب کاری (اگرچہ نایاب ہے)
اگرچہ یہ امکان کم ہوتا ہے، مگر ہر حادثے کے بعد سیکیورٹی ایجنسیز یہ پہلو بھی ضرور چیک کرتی ہیں کہ کہیں حادثہ دانستہ طور پر تو نہیں کرایا گیا؟ جیسے کسی بم یا اندرونی تخریب کاری کی صورت میں۔
تحقیقات کا انتظار ضروری ہے
ابھی تک حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور صحیح وجہ کا اعلان حکومتی ادارے اور ماہرین ہی کر سکیں گے۔ ہمیں کسی مفروضے پر یقین کرنے کے بجائے سرکاری رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔
نتیجہ:
احمد آباد حادثہ ایک المناک واقعہ ہے۔ یہ وقت دکھ اور صبر کا ہے، لیکن ساتھ ہی حفاظتی اقدامات پر نظرِ ثانی اور ایئرلائنز کی ذمہ داری بڑھانے کا بھی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے دل دہلا دینے والے سانحے دوبارہ نہ ہوں۔
