❗ سالی کے ساتھ زنا اور نکاح کا حکم
1️⃣ زنا ایک کبیرہ گناہ ہے
سب سے پہلے سمجھیں کہ زنا، چاہے کسی اجنبی عورت سے ہو یا سالی سے، اسلام میں انتہائی بڑا اور سنگین گناہ ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس پر سخت وعید آئی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی اور بہت برا راستہ ہے۔”
(سورۃ الاسراء: 32)
2️⃣ سالی کے ساتھ زنا نکاح کو ختم نہیں کرتا
فقہ اسلامی میں کسی مرد کا اپنی بیوی کی بہن (سالی) کے ساتھ زنا کرنا انتہائی بڑا گناہ ہے، لیکن اس سے اس کی بیوی کے ساتھ نکاح ختم نہیں ہوتا۔
✔ نکاح صرف طلاق، خلع یا قاضی کے فیصلے سے ختم ہوتا ہے، زنا سے نہیں۔
3️⃣ حرمتِ مؤبد (ہمیشہ کے لیے حرام) کا حکم
زنا کی وجہ سے سالی ہمیشہ کے لیے آپ پر حرام نہیں ہوتی۔ البتہ اگر کوئی مرد اپنی بیوی کی بہن سے نکاح کرنا چاہے تو شریعت کے مطابق بیوی کی موجودگی میں ایسا نکاح ویسے بھی جائز نہیں ہوتا جب تک بیوی کو طلاق نہ دے یا وہ فوت نہ ہو جائے۔
4️⃣ توبہ کرنا فرض ہے
زنا کا گناہ بہت بڑا ہے اور اس پر اللہ کے حضور سچی توبہ کرنا لازم ہے:
-
دل سے پشیمان ہوں
-
اللہ سے معافی مانگیں
-
آئندہ کبھی ایسا گناہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کریں
-
نیک اعمال اور عبادات سے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کریں
⚠ اہم نصیحت
-
یہ معاملہ چھپانا بہتر ہے، دوسروں کے سامنے اپنی یا کسی کی عزت کو رسوا نہ کریں۔
-
اس گناہ کو دُہرانے سے بچیں اور اپنے نفس کی حفاظت کریں۔
-
اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
