گردوں میں خرابی کا اشارہ دینے والی 14 نشانیاں جنہیں جان کر آپ بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں
گردے انسانی جسم کے اہم ترین اعضاء میں سے ہیں جو خون کو فلٹر کرتے ہیں، جسم سے فاسد مادے خارج کرتے ہیں اور پانی و نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ اگر گردے صحیح طرح کام نہ کریں تو یہ پورے جسم کو متاثر کر سکتے ہیں، اور بعض اوقات یہ مسئلہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ خوش قسمتی سے، گردوں کی خرابی کی چند ابتدائی علامات ایسی ہوتی ہیں جنہیں اگر بروقت پہچان لیا جائے تو سنگین نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔
ذیل میں گردوں میں خرابی کی 14 واضح نشانیاں بیان کی جا رہی ہیں:
1. بار بار پیشاب آنا
اگر آپ کو معمول سے زیادہ بار پیشاب آتا ہے، خاص طور پر رات کے وقت، تو یہ گردوں کے فلٹرنگ سسٹم میں خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔
2. پیشاب میں جھاگ یا جھاگ دار پیشاب
پیشاب میں بہت زیادہ جھاگ آنا پروٹین کے اخراج کا اشارہ ہو سکتا ہے، جو گردوں کے درست کام نہ کرنے کی علامت ہے۔
3. پیشاب میں خون آنا
گردے جب خراب ہوتے ہیں تو خون کے خلیے پیشاب کے راستے خارج ہو سکتے ہیں، جو شدید خرابی کی نشانی ہے۔
4. پیشاب کا رنگ یا بدبو
پیشاب کا رنگ اگر بہت گہرا ہو یا اس میں بدبو ہو تو یہ گردوں میں انفیکشن یا خرابی کی علامت ہو سکتی ہے۔
5. جسم پر سوجن (خاص طور پر ٹخنوں، پاؤں، اور چہرے پر)
گردے نمکیات اور پانی کو خارج نہ کر پائیں تو جسم میں سوجن آ جاتی ہے۔
6. تھکن اور کمزوری
گردوں کی خرابی سے خون میں آکسیجن لے جانے والے سرخ خلیات کم ہو جاتے ہیں، جس سے انسان خود کو مسلسل تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔
7. سانس لینے میں دقت
گردوں کی خرابی سے جسم میں پانی جمع ہو جاتا ہے، جو پھیپھڑوں میں بھی جا سکتا ہے اور سانس لینے میں دقت پیدا کرتا ہے۔
8. بھوک میں کمی
گردوں کی خرابی کے باعث خون میں زہریلے مادے جمع ہو جاتے ہیں، جو بھوک کو کم کرتے ہیں۔
9. متلی اور قے
خون میں زہریلے مادوں کی موجودگی سے معدہ متاثر ہوتا ہے اور متلی یا قے ہو سکتی ہے۔
10. جلد پر خارش
گردے اگر جسم سے فاسد مادے نہیں نکال پائیں تو وہ جلد میں جمع ہو کر شدید خارش کا باعث بنتے ہیں۔
11. نیند کی خرابی
گردوں کی خرابی سے نیند متاثر ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر پیشاب کا دباؤ یا ٹانگوں میں درد ہو۔
12. یادداشت کی کمزوری یا ذہنی دھند
گردوں کے مسائل دماغی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں، جس سے توجہ میں کمی یا ذہنی الجھن ہو سکتی ہے۔
13. منہ میں بدذائقہ یا سانس کی بدبو
گردوں کی ناکامی سے خون میں یوریا کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس سے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے اور سانس سے بدبو آتی ہے۔
14. ہائی بلڈ پریشر
گردے خون کے دباؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اگر وہ خراب ہوں تو ہائی بلڈ پریشر ایک عام علامت ہوتی ہے۔
نتیجہ
گردوں کی بیماری “خاموش قاتل” کہلاتی ہے کیونکہ اس کی علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اور اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کوئی بھی علامت محسوس کریں تو فوری طور پر کسی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں، تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔
گردے کی صحت کے لیے پانی کا مناسب استعمال، نمک کی مقدار میں اعتدال، اور باقاعدہ چیک اپ انتہائی ضروری ہیں۔ ایک صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر ہم نہ صرف گردوں کو بلکہ پورے جسم کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
