زندگی کبھی کبھی ایسے واقعات سے گزرتی ہے جو انسان کی سوچ اور احساسات کو یکسر بدل دیتے ہیں۔ میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ آپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں جو میرے ساتھ یونیورسٹی سے واپسی کے دوران پیش آیا۔ یہ کہانی صرف میرے خوف اور پریشانی کی نہیں بلکہ اس سے جڑے جذبات، احساسات اور زندگی کے نئے معانی کی بھی ہے۔
یونیورسٹی کا دن اور واپسی کا لمحہ
وہ دن عام دنوں کی طرح تھا، یونیورسٹی کی کلاسز مکمل کرکے میں گھر واپس جا رہا تھا۔ شام کے وقت راستہ تھوڑا سنسان تھا اور سڑکوں پر کم لوگ تھے۔ جیسے ہی میں اپنے گھر کے قریب پہنچا، اچانک ایک نقاب پوش شخص نے مجھے گھیر لیا۔ میری چیخ و پکار شروع ہوئی مگر وہاں کوئی مدد کو نہیں آیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ شخص مجھے اغوا کرنا چاہتا ہے۔
تین دن کا قید خانہ
میری زندگی کے یہ تین دن بہت خوفناک اور کٹھن تھے۔ مجھے ایک غیر معلوم جگہ لے جایا گیا جہاں میں بند تھا۔ اس نقاب پوش نے کبھی بات کی، کبھی خاموشی اختیار کی۔ وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کرتا، اور کبھی غصہ بھی دکھاتا۔ میرے دل میں ایک طرف خوف تھا تو دوسری طرف حیرت کہ آخر یہ شخص مجھے کیوں روک رہا ہے؟
خوف، امید اور حقیقت کی تلاش
تیسرے دن جب میں نے اس شخص سے بات کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ اس نے مجھے اغوا اس لیے کیا کیونکہ اس کے ذاتی مسائل تھے اور وہ کسی کے پیچھے تھا۔ میں اس کے مسئلے کو سمجھنے لگا اور کچھ باتیں سن کر میری ہمت بڑھی کہ شاید میں اس کی مدد کر سکوں۔ اسی دوران میں نے اس سے کہا کہ ہم مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔
رہائی اور زندگی کا نیا مقصد
آخرکار، تین دن کے بعد مجھے چھوڑ دیا گیا۔ یہ تجربہ بہت بھاری اور سبق آموز تھا۔ میں نے سیکھا کہ زندگی میں خوف کے ساتھ ساتھ ہمت اور سمجھداری بھی بہت ضروری ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی زندگی کو دوسروں کی مدد کے لیے وقف کروں گا تاکہ ایسے واقعات کم ہوں اور معاشرہ محفوظ بنے۔
سبق آموز نکات
ہوشیار رہیں: جب بھی آپ اکیلے کہیں جائیں تو اپنے آس پاس کا خیال رکھیں۔
حالات کا جائزہ لیں: مشکل وقت میں پرامن اور ہوشیار رہیں تاکہ آپ بہتر فیصلے کر سکیں۔
مدد حاصل کریں: ایسے واقعات کے بعد فوری پولیس یا کسی قابل اعتماد فرد کو اطلاع دیں۔
معاشرتی شعور: ایسے واقعات معاشرے میں بڑھتے ہوئے مسائل کی علامت ہیں، ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے۔
آخر میں
میری یہ کہانی آپ کو خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ احتیاط اور حوصلہ دینے کے لیے ہے۔ زندگی میں پریشانیاں آتی رہتی ہیں مگر ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے اور ہر تجربہ ہمیں مضبوط بناتا ہے۔ اگر ہم مل کر ایک دوسرے کی مدد کریں تو ہمارا معاشرہ زیادہ محفوظ اور خوشگوار بن سکتا ہے۔
