پاکستان کے مختلف حصوں میں ہونے والے سیاسی واقعات نے کئی خاندانوں کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ان ہی واقعات میں ایک نام افتخار جٹ کا بھی سامنے آیا، جو محض 32 برس کا ایک نوجوان تھا، لیکن اس کی زندگی کا سفر حالات کی بھول بھلیوں میں کچھ اس طرح الجھ گیا کہ انصاف اور نظامِ قانون خود ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا۔
افتخار جٹ پر 9 مئی کے واقعے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ وہ دن تھا جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر تھی اور کئی نوجوان، چاہے دانستہ یا نادانستہ طور پر، ان حالات کی لپیٹ میں آ گئے۔ افتخار کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا کہ وہ ہجوم کا حصہ تھا۔ جبکہ اس کے گھر والے، دوست اور اہلِ علاقہ اس بات پر متفق تھے کہ وہ نہ صرف ایک شریف النفس نوجوان تھا بلکہ ایک ذمہ دار شہری بھی تھا۔
جیل کی آزمائش
افتخار کو حراست میں لیے جانے کے بعد جیل کی زندگی نے اس کے لیے ایک نئے امتحان کا آغاز کیا۔ جیل ایک ایسا مقام ہے جہاں مجرم اور بے گناہ، دونوں کو ایک ہی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن افتخار کے ساتھ جو ہوا، وہ صرف قید نہیں تھی بلکہ ایک خاموش اذیت تھی۔
جیل کے سخت حالات، ذہنی دباؤ، بیماریوں کی کمی اور طبی سہولیات کا فقدان… یہ سب مل کر افتخار کی صحت کو مسلسل گراوٹ کی طرف لے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے دورانِ قید ایک خطرناک بیماری لاحق ہو گئی، لیکن علاج کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے اس کی حالت بگڑتی چلی گئی۔
اہل خانہ کی فریاد
افتخار کے والدین دن رات عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے، ہر دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن نظامِ انصاف کی پیچیدگیاں اور تاخیر نے ان کی امیدوں کو ماند کر دیا۔ وہ صرف اپنے بیٹے کی بے گناہی کا یقین ہی نہیں دلاتے رہے بلکہ یہ بھی التجا کرتے رہے کہ اگر بیٹا قصوروار بھی ہے تو اسے بنیادی انسانی حقوق ضرور دیے جائیں۔
ایک لمحہ فکریہ
افتخار کا کیس ان گنت سوالات کو جنم دیتا ہے:
-
کیا ہمارے نظام میں انصاف کے تقاضے بروقت پورے ہوتے ہیں؟
-
کیا زیرِ حراست افراد کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں؟
-
کیا کسی کا سیاسی پس منظر اس کے علاج یا سلوک پر اثر انداز ہونا چاہیے؟
یہ سوالات صرف افتخار کے لیے نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔
نتیجہ
افتخار جٹ کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انصاف صرف فیصلہ سنانے کا نام نہیں، بلکہ بروقت اقدام اور انسانیت کا احترام بھی انصاف کے بنیادی ستون ہیں۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانے کی ضرورت ہے جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو، اور کسی بے گناہ کو صرف شک کی بنیاد پر اپنی جان نہ گنوانی پڑے۔
