Uncategorized

لاہور کا ایک سچ: کب تک عورتیں ظلم سہتی رہیں گی؟

لاہور کا ایک سچ: کب تک عورتیں ظلم سہتی رہیں گی؟

زہرا، ایک بیوہ عورت، جس نے زندگی کی سب سے بڑی جنگ اپنے شوہر کے بعد تنہا لڑی۔ چار معصوم بچوں کی ماں، وہ ہر روز محنت کرتی، اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دیتی، ان کی تعلیم، صحت اور تربیت کا خیال رکھتی۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ سب سے بڑا خطرہ کسی اجنبی سے نہیں بلکہ اپنے ہی گھر سے ہے۔

لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا۔ زہرا، جو پہلے ہی زندگی کے دکھ سہہ چکی تھی، اپنے ہی دیور کے ہاتھوں ظلم کا شکار ہو گئی۔ یہ صرف ایک خاتون کی کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جو ہمیں ہماری خاموشی، بے حسی، اور کمزور نظام کا چہرہ دکھاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں عورت کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے طور پر عزت دی جاتی ہے۔ لیکن جب یہی عورت ظلم کا شکار بنتی ہے، تو اکثر لوگ خاموش تماشائی بن جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کب تک؟ کب تک زہرا جیسے واقعات صرف خبروں تک محدود رہیں گے؟ کب تک انصاف کے دروازے مظلوموں کے لیے بند رہیں گے؟

ضرورت اس بات کی ہے کہ:

  • گھریلو تشدد کو سنجیدگی سے لیا جائے

  • خواتین کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے

  • ایسے افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دوسروں کے لیے نشانِ عبرت بنیں

  • معاشرے میں خواتین کو بولنے، شکایت کرنے اور انصاف مانگنے کا حوصلہ دیا جائے

زہرا آج بول نہیں سکتی، لیکن اس کی خاموشی ایک پکار ہے۔ اس پکار کو سننا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *